Thursday, May 30, 2019

امریکہ میں سیب جتنا وزن رکھنے والی بچی کی پیدائش



امریکہ میں سیب جتنا وزن رکھنے والی بچی کی پیدائش


امریکی ریاست کیلی فورنیا کے ہسپتال نے دنیا کی سب سے چھوٹی، کم وزن اور بچ جانے والی بچی کی پیدائش کا اعلان کیا ہے جس کا وزن صرف 245 گرام (8.6) اونس ہے۔ بچی کا پیدا ہونے کے وقت وزن ایک بڑے سیب جتنا تھا۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بچی کی پیدائش ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان ڈیاگو کے شارپ میری برچ ہسپتال میں ہوئی ہے اور ہسپتال سٹاف نے اس کا نام سیبی رکھا۔ سیبی کی پیدائش کے وقت ان کی والدہ 23 ہفتے اور تین دن کی حاملہ تھیں۔
ڈاکٹروں کی جانب سے سیبی کی پیدائش کے وقت ان کے والد کو بتایا گیا تھا کہ ان کی بچی صرف ایک گھنٹہ ہی زندہ رہ سکے گی۔
ہسپتال کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں بچی کی والدہ کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک گھنٹہ کئی گھنٹوں میں تبدیل ہو گیا اور پھر ایک دن اور پھر ایک ہفتہ ہو گیا۔‘
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سیبی کی پیدائش گذشتہ برس دسمبر میں آپریشن کے ذریعے ہوئی اور حمل کی سخت پیچیدگیوں نے ان کی والدہ کی جان کو بھی خطرے میں ڈال دیا تھا۔

سیبی کی پیدائش کے وقت ڈاکٹروں نے ان کے والد کو بتایا کہ ان کی بچی ایک گھنٹہ ہی زندہ رہ سکے گی۔ تصویر: اے ایف پی

سیبی کو پانچ ماہ تک ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں رکھنے کے بعد اس مہینے کے شروع میں ڈسچارج کر دیا گیا اس وقت ان کا وزن پانچ پاؤنڈ تھا۔
ہسپتال کی ایک نرس ایما وائسٹ کا کہنا ہے کہ سیبی پیدا ہونے کے وقت اس قدر چھوٹی تھی کہ اسے بمشکل بستر پر دیکھا جا سکتا تھا۔
نرس کا مزید کہنا تھا کہ سیبی کا وزن بچوں کے جوس کے ڈبے جتنا تھا اور اسے آسانی سے ہتھیلی پر اٹھایا جا سکتا تھا۔
ایما وائسٹ نے کہا کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کے ہسپتال میں اس قدر چھوٹی بچی کی پیدائش ہوئی ہے تو یہ بات ناقابل یقین لگی کیونکہ سیبی کا وزن 23 ہفتوں کے بعد پیدا ہونے والے ایک عام بچے سے بھی آدھا تھا۔
یونیورسٹی آف آئیووا کی چھوٹے اور کم وزن بچوں کی فہرست کے مطابق سیبی دنیا کی سب سے چھوٹی بچی ہیں۔
اس سے قبل دنیا کے سب سے چھوٹے بچے کا ریکارڈ جرمنی میں 2015 میں پیدا ہونے والے بچے کا تھا جس کا پیدائش کے وقت وزن سیبی سے سات گرام زیادہ تھا۔
یونیورسٹی آف آئیووا کے پروفیسر ایڈورڈ بیل نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ یقین 
نہیں کرتے لیکن زندگی میں ایسے معجزات رونما ہوتے ہیں۔

0 Comments: